اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی سید محمد باقر شیرازی نے امریکہ اور صہیونیوں کی سازش سے تیار ہونے والی توہین آمیز فلم پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اس گھٹیا اور واہیات اقدام سے نفرت کا اظہار کیا اور تمام ادیان کے پیروکاروں سے اس اقدام پر رد عمل کے اظہار کی اپیل کرتے ہوئے فلم کے تمام عوامل کو سزا دلوانے کی دعوت دی ہے۔
آیت اللہ العظمی سید محمد باقر شیرازی کے پیغام کا متن
بسم الله الرحمن الرحیم
قال الله تبارک وتعالی: "ووَإِذْ زَيَّنَ لَهُمُ الشَّيْطَانُ أَعْمَالَهُمْ وَقَالَ لاَ غَالِبَ لَكُمُ الْيَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَإِنِّي جَارٌ لَّكُمْ فَلَمَّا تَرَاءَتِ الْفِئَتَانِ نَكَصَ عَلَى عَقِبَيْهِ وَقَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكُمْ"۔ (سورہ انفال آیت 48)ترجمہ: اور جب شیطان نے ان کے لئے ان کے اعمال کو آراستہ کرکے دکھایا اور کہا کہ آج کوئی بھی تم پر غالب آنے والا نہیں ہے اور بے شک میں تمہارا مددگار اور تمہیں پناہ دینے والا ہوں- اس کے بعد جب دونوں گروہ آمنے سامنے آئے تو وہ الٹے پاؤں بھاگ نکلا اور کہا کہ میں تم لوگوں سے بری (بیزار) ہوں یقیناً میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو اور بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں کہ وہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
سورہ انفال کی آیت 48 سے جو کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے یہ ہے کہ توہین نہ صرف شیطان کے اعمال میں سے ہے بلکہ بےمنطق، غیر معقول اور شکست خوردہ انسانوں کی ثقافت بھی ہے؛ اور بےمنطقی، نامعقولیت اور شیطان کی متابعت کی بدترین حالت یہ ہے کہ انسان دین کے مقدسات اور اس دین کو لانے والے کی توہین کرے کیونکہ کسی دنی کی طرف سے پیش کی جانے والی تعلیمات کا سامنا کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ عقلی اور منطقی استدلال کا راستہ اپنایا جائے ورنہ عقل کا حکم یہ ہے کہ ایسے دین کے سامنے سرتسلیم خم کیا جائے۔ یہ جو ـ افسوس کے ساتھ ـ ہم ہر روز دیکھتے ہیں کہ مختلف شکلوں میں، چاہے گمراہ کن کتابوں کی صورت میں چاہے فلم اور اس کی مانند دوسرے طریقوں سے، اسلام کے مقدسات اور ان کی چوٹی پر رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کی جارہی ہے، یہ اسلام اور ترقی پسندانہ اور آزاد انسانوں کی فطرت سے ہمآہنگ اسلامی تعلیمات کے عالمی فروغ کا مقابلہ کرنے سے عجز اور بے بسی کی علامت ہے؛ کہ اسلام آج کے زمانے میں پوری دنیا اور خاص طور پر امریکہ اور یورپ پر چھاگیا ہے اور درحقیقت اسلام فوبیا (اسلام سے لوگوں کے بےجا خوفزدہ کرنے کی پالیسی) رسول اللہ الاعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کا بنیادی سبب ہے اور اس کا مقصد اسلام کے فروغ کا راستہ روکنا ہے جبکہ اللہ جَلَّ شَأنُهُ کا فرمان ہے:
"وَمَكَرُواْ وَمَكَرَ اللّهُ وَاللّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ"۔ (سورہ آل عمران آیت 54)
ترجمہ: اور مکاری کی تو اللہ نے بھی جوابی تدبیر کی اور خدا بہترین تدبیر کرنے والا ہے۔
میں لیبیا میں امریکی قونصل خانے پر حملے اور مصر، پاکستان اور یمن کے مسلمانوں کے بجا رد عمل، مظاہروں اور احتجاجی اقدامات اور امریکی پرچم نذر آتش کرنے جیسے اقدامات کی بھرپور حمایت کرتا ہوں اور دنیا کے تمام مسلمانوں اور مختلف ادیان کے پیروکاروں اور تمام آزاد اور حریت پسند انسانوں نیز ایران کی شریف قوم سے اپیل کرتا ہوں کہ وسیع احتجاجی ریلیوں سمیت ہر ممکن طریقے سے اس اس گھٹیا اور گستاخانہ اقدام سے اپنی نفرت اور غم و غصے کا اظہار کریں اور علاوہ ازین اسلامی تعاون تنظیم، مجمع تقریب بین المذاہب الاسلامیہ جیسی تنظیموں سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ ضروری اقدامات کرکے اس طرح کی حرکتوں کا سد باب کریں اور کسی شکل میں اس کی دہرائے جانے کی اجازت نہ دیں۔
محمد باقر بن عبد الله شیرازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110